مقصد اور وسیلہ

Home » Urdu (اردو) » کتب » المیزان یا چراغِ راہ » مقصد اور وسیلہ

ہر کام اور مہم کے لیے پہلے اس کا ہدف اور مقصد مقرر کرنا لازمی ہوتا ہے تا کہ انسان اپنے وسائل سے ہی بندھا نہ رہ جائے۔ قوم کی راہ میں کی جانے والی خدمات کے سلسلے میں اگر روحانی اقدار کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہدف مقرر نہ کیا جائے تو خیالات ایک گرداب کی شکل حاصل کر لیتے ہیں اور خدمت کرنے والے لوگ خیالات کے اِس گرداب کے رحم و کرم پرچکرکاٹتے رہ جاتے ہیں ۔

* * * * *

غوروفکر کے پلیٹ فارم پر ضروری ہے کہ پہلا مقام ہدف اور مقصد کو دیا جائے اور یہ بالکل واضح ہوں ۔ورنہ آپ سوچ بے اعتدالی کا شکار ہو جائے گی جس کا نتیجہ ذہنی الجھاﺅ ہو گا۔ ایسے بے شمار منصوبے دیکھنے میں آئے ہیں جو دیکھنے میں تو بڑے شاندار تھے مگر مقصد اور وسائل کے آپس میں خلط ملط ہو جانے کے باعث بے ثمر رہ گئے۔ایک تو اِن سے کوئی فائدہ مند نتیجہ حاصل نہ ہو سکا اوردوسرے یہ اپنے پیچھے بے انتہا کینہ اور نفرت چھوڑ گئے۔

* * * * *

فعال انسان اور منصوبے بنانے والے ہر شخص کو چاہئیے کہ ہر شے سے پہلے خا لق ِ اعظم اور اُس کی خوشنودی کوپیشِ نظررکھے ورنہ کئی قسم کے ُبت بیچ میں ٹانگ اڑا سکتے ہیں ‘ باطل حق دکھائی دے سکتا ہے‘ ہوس اور لالچ سوچ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں ‘ اور مذہبی جنگ کے نام پر جرائم کئے جا سکتے ہیں ۔

* * * * *

حقِ تعالیٰ کی خوشنودی کی راہ میں کیے جانے والے کاموں کا ہرذرہ سورج‘ ہر قطرہ دریا‘ اور ہر آن ابد کی قیمت رکھتی ہے۔اِدھر تو یہ بات ہے اور اُدھر جس راہ پر چلنے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی نہ حاصل ہوتی ہواِس سے دنیائیں بے شک جنّتوں میں تبدیل ہو جائیں مگر اِس کام کا اثر صفر ہی ہو گا‘ قیمت کچھ نہیں ہو گی‘ اور یہ متعلقہ شخص کی کمر پر ایک وبال ہو گا۔

وسائل اور ذرائع کی قدروقیمت کا پیمانہ یہ ہے کہ مقصد کا حصول کس حد تک ممکن رہا اور مقصد کے حصول کی راہ میں نقائص کس حد تک حائل ہوئے۔ اِسی اعتبار سے جو وسائل مقصد کے حصول تک نہیں پہنچاتے بلکہ مقصد کے حصول کی راہ میں روڑا اٹکاتے ہیں اُنہیں ”ملعون“ کہا جاتا ہے۔ دنیا پر لعنت کا بھیجا جانا بھی خدائے تعالیٰ کے اسی پہلو سے منسلک ہے۔ ورنہ یہ دنیا جو ہزاروں اسمائے الٰہی کے جلووں کی عکاسی کرنے والی ایک محتشم نمائش گاہ کی حیثیت رکھتی ہے‘یہ ایک ایسی جگہ ہے جس سے محبت بھی کی جاتی ہے اور جس کی تعریف کے پل بھی باندھے جاتے ہیں ۔

* * * * *

حق کو ہاتھ میں لے کر بلند کرنے کے موضوع سے متعلق قسم قسم کے راستے اور ذرائع موجود ہیں ۔ ان کی قدروقیمت اِس بات پر منحصر ہے کہ یہ حق کی کس قدر عزت اور احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں اور حقیقت کے بارے میں انسانی دسوچ کی کس حد تک نشوونما کرتے ہیں ۔ اگر ایک گھر اپنے اندر پناہ لینے والوں کو اپنی مہارت سے اُڑنے کے قابل بنا دیتا ہے‘ ایک معبد اپنے محراب میں جمع ہونے والی جماعت کے ابدیت کے تصو ر کا خمیر اٹھا کر اس کی ماہیت بدل دیتا ہے‘ اور ایک مکتب اپنے طلباءکو امید اور یقین کے ذریعے بڑے بڑے کام کرنے کی جرات عطا کر دیتا ہے تو گویا یہ سب ان کاموں کا وسیلہ بننے کا فرض ادا کر دیتے ہیں ۔لہٰذہ یہ سب مقدس ہیں ۔ ورنہ ان میں سے ہر ایک ایک ایسا جادو کا جال ہے جو اولادِ آدم کی راہ کاٹ دیتا ہے۔ یہی حال معاشرے‘ اِدارے‘ اوقاف‘ سیاستدانوں وغیرہ کا بھی ہے۔۔۔۔!

* * * * *

ہر اِدارہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ‘ اس کے بانی کو چاہیے کہ وہ اِس اِدارے کے بنانے کا مقصد اور اُس کے جاری رہنے کی حکمت کواکثر ذہن میں لاتا رہا کرے تاکہ اس کے کام کا ہدف ہاتھ سے نہ چھوٹے اور اِدارہ بارآور ثابت ہو سکے ۔ اس کے برعکس وہ ہوسٹل‘یتیم خانے اور مکتب جو اپنے ہدف اور قیام کے مقصد کو بھول جاتے ہیں ‘بالکل اُن انسانوں کی طرح ہوتے ہیں جو اپنی پیدائش کے مقصد کو بھول چکے ہوتے ہیں اور اصل راہ سے ہٹ کر اُلٹی راہ پر چلتے رہتے ہیں مگر اپنے اصل ہدف تک کبھی نہیں پہنج سکتے۔

ذہنی اجارہ داری اور سچ کو صرف اپنے آپ تک محدود رکھنا وسیلہ پرستی اور ہدف تعین نہ کرنے کی علامت ہے۔ ایک ہی یقین‘ ایک جیسے احساسات اور خیالات کے لوگوں کے خلاف کینہ پروری اور نفرتیں اگر ہدف اور مقصد کے خیال سے محرومیت کی دلالت نہیں ہیں تو پھر کیا ہیں ؟ حیف ہے اُن لوگوں پر جویہ سوچتے ہیں کہ کائنات کا نظام اُنہیں کے ناقص حساب سے چلایا جا رہا ہے‘ او ر حیف ہے اُس ذلیل مخلوق پر‘ اُن نفس کے غلاموں پر جو نفس سے آزادی کو قبول نہیں کرتے۔۔۔۔!

Share:

More Posts

fethullah gulen le monde d39

ترکی کی حالیہ مثال کے باوجود اسلام اور جمہوریت ہم آہنگ ہیں

حالیہ صدی کے اوائل میں ترکی ایک جدید اسلامی جمہوریت کے طور پر ابھرا۔ موجودہ حکمران جماعت نے   2002 میں حکومت سنبھالنے کے بعد ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جو یورپی یونین کے جمہوری پیمانوں پر پوری اترتی تھیں اور ملک میں حقوق انسانی کا ریکارڈ بہتر ہونا شروع ہو گیا۔
بد قسمتی سے یہ جمہوری روایات…

fethullah gulen 28 subat surecini desteklemis midir 635

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم کا فتح اللہ گولن سے انٹریو

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم (ایس سی ایف) نے فتح اللہ گولن سے ان واقعات کے متعلق سوالات کیے جن کے نتیجے میں 150,000 لوگوں کو برطرف کیا گیا اور اتنے ہی لوگ حراست میں لیے گئے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزام میں 50,000 سے زائد لوگوں…

fethullah gulen hocaefendinin bbcye verdigi mulakat ce9

فرانس 24 کے لیے محمد فتح اللہ گولن کا انٹرویو

سوال: صدر اردگان کہتے ہیں کہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ 15جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کی کوشش کے پیچھے ماسٹر مایئنڈ آپ ہیں۔ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر اردگان سے کافی قربت ہے اور وہ ان کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔…

ataturk havalimanindaki teror saldirisiyla ilgili taziye mesaji d4d

ہمیں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے ان کی مدافعت کو مضبوط کرنا ہوگا

لندن اور مانچسٹر میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے کی ذمہ داری پھر داعش نامی گروہ نے لے لی۔ اس سے قبل بھی معصوم لوگوں پر حملہ کروانے والایہ گروہ اپنے آپ کو کوئی بھی نام دے لیکن ان کا نام انسانیت سے دور مجرم گروہ کا ہی بنتا ہے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کو مستقبل…

fethullah gulen 60 4b5 scaled

فتح اللہ گولن کا NPRکو انٹرویو: ’’میں ہر قسم کی بغاوت کے خلاف کھڑا ہوا ہوںـ‘‘

گذشتہ برس 15 جولائی کو ترک فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی کوشش کے دوران سرکاری عمارات پر بمباری کی اور سڑکوں اور پلوں کو بند کیا تاکہ صدر رجب طیب اردگان کو عہدے سے برطرف کردیا جائے۔اگرچہ اس کوشش کو اگلے ہی دن کچل دیا گیا مگر اس وقت کے بعد سے ترکی…

fethullah gulen de ozur dilemeli densizligi 91b

مصری اور انڈونیشین میڈیا کے لیے فتح اللہ گولن کا انٹرویو

1۔ صدر اردگان اور ان کے حامی آپ پر دہرے کردار کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایک نرم مزاج دینی استاد مگر ایک دہشت گرد ۔ وہ آپ پر گولنسٹ دہشت گرد تنظیم چلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ آپ اردگان کی جانب سے مرکزی دشمن ہونے پر کیسا محسوس کرتے…

fethullah gulen 08 bb3

فتح اللہ گولن:’’ میں ترکی میں ناکام بغاوت کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘

15جولائی کی رات ترکی فوجی بغاوت کی کوشش کے نتیجے میں حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن سانحے سے گزرا۔ اس رات کے واقعات کو ایک خطرناک دہشت گردی پر مبنی شورش کہا جاسکتا ہے۔
ترکی کے تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک…

Send Us A Message