بے ثباتی اور ثبات

Home » Urdu (اردو) » کتب » المیزان یا چراغِ راہ » بے ثباتی اور ثبات

حقیقت کو پا لینا اور اُسے اپنا دل دے دینا جس قدر اہم ہے ‘ حقیقت کو پا کر اُس سے وفاداری کرنا‘ اُس کی بتائی ہوئی راہ پر ثبات سے چلتے رہنا بھی اُتنا ہی اہم ہے۔اور اُس پر سختی سے قائم رہنا بھی ایک قابلِ قدر خاصیت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص روحانی طور پر حقیقت کی روشنی پا لیتا ہے اُس کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ آسانی سے اپنی راہ اور جہت تبدیل کر لے گا۔۔۔! جہاں تک ایسے لوگوں کا تعلق ہے جو صبح شام بغیر وقفے کے اپنے محراب تبدیل کرتے رہتے ہیں ‘ تو وہ اِن بدنصیبوں میں سے ہوتے ہیں جو ابھی تک حقیقت کو نہیں پا سکے‘ یا اُن نالائقوں میں سے ہوتے ہیں جنہیں حقیقت کی قدروقیمت کی سمجھ ہی نہیں آ سکی۔

وہ خوش قسمت لوگ جنہوں نے اپنے دلوں کو حقیقت کے سمندر کا ساحل بنا لیا ہے‘ وہ ایک غیر تسکین پذیر آرزو اور اشتیاق کے ساتھ اُس سمندر سے آنے والی لہروں کو اپنے سینے پر قبول کرتے اور پھر یہ پوچھ کر اپنے لیے شہرت کماتے ہیں کہ ”کیا اور بھی ہیں ؟“ یہ وہ لوگ ہیں جن کا دورِ جستجو ختم ہو چکا ہے‘ جو اپنا محراب پا چکے ہیں ‘اور جن کی روحوں میں حقیقت ہمیشہ کے لیے گھر کر چکی ہے۔ جہاں تک لگاتار موجزن رہنے والے لوگوں کا تعلق ہے تووہ یا تو جستجو کے اصولوں سے نابلد محدودِے چند ناتجربہ کار شخص ہوں گے یا پھرایسے قوتِ فیصلہ سے محروم افراد ہوں گے جو جستجو اور حصول کے فرق سے ناواقف ہونے کے باعث اِن دونوں کو آپس میں خلط ملط کر دیتے ہیں ۔حاصل وہی کرتے ہیں جو جستجو کرتے ہیں ۔ جو حاصل کر چکتے ہیں وہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے ہیں ۔ اور جو سرگرداں یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے حقیقت کو پا لیا ہے وہ زندگی بھر ایک ہی جگہ پرگھومتے رہتے ہیں ۔

* * * * *

ایک ہی جگہ پر ڈٹ کر اپنی پوزیشن کی حفاظت کرنا دشمن کو مغلوب کرنے اور اپنے ہدف تک پہنچنے کا اوّلین ذریعہ ہے۔ محاذ کو ترک کر کے الگ ہو جانے والے‘ اپنی پوزیشن کو ترک کر دینے کی گھڑی سے ہی شکست کی راہ پر گامزن سمجھے جاتے ہیں ۔

* * * * *

محاذ سے فرار ہونے والا ہر شخص سب سے پہلے اپنے ضمیر کے سامنے اور پھر تاریخ اور آنے والی نسلوں کے سامنے اپنے آپ کو ملزم گردانتا ہے۔ اِس وجہ سے گویا وہ اپنے مقصد کے دشمن عناصر کے ہاتھوں پِٹ جاتا ہے۔ ہر عظیم دعوے کی خاطر اپنی پوزیشن کا ثبات کے ساتھ دفاع کرتے رہنا بہادری کی علامت ہے۔ ہوا کی رَو کے مطابق اڑتے پھرنے والے نفس کے غلام جو آزادی قبول نہیں کرتے‘ اگر یہ بات نہ سمجھیں ‘ اِسے سمجھنے کی نیت بھی نہ رکھتے ہوں تو وہ علیحدہ بات ہے ۔ مگر جو حقیقتاََ انسان ہیں وہ جب ایک مرتبہ حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں تو پھر ذاتی مفادات اُن کے پاﺅں کی زنجیر نہیں بن سکتے‘ خوف اُن کا راستہ روک کر اُن کے لیے سدِراہ نہیں بن سکتا‘ شہوت اُن کا پیچھا نہیں کر سکتی۔ وہ اِن سب رکاوٹوں کے اوپر سے گزر جاتے ہیں جیسے وہ ہوا میں پرواز کر رہے ہوں ۔

* * * * *

خدمت کے دوران لگاتار اپنے افکار اور مقام تبدیل کرنے والے لوگ نہ صرف اپنی خوداعتمادی اور بھروسے کے احساسات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ مسئلے کے حل میں اپنے ساتھیوں کے لیے بھی امیدشکن ثابت ہوتے ہیں ۔ جس طرح ذوق و شوق سے مارچ کرنے والی کسی جماعت میں سے کسی ایک شخص کا صف سے نکل کر غائب ہو جانا اُس یونٹ کی رفتار کی روانی میں خلل اور اِس جماعت میں ابتری پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے بالکل اسی طرح ایک مشترکہ آئیڈیل کے حصول کی دئیے گئے کسی گروہ میں سے بعض لوگوں کا علیحدہ ہو جانا بھی دوستوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔اُن میں (شرمندگی) بد بینی اور ذلت کا احساس پیدا کر تا ہے‘ جبکہ دشمنوں کو خوشیوں سے ہمکنار کر دیتا ہے۔

* * * * *

وہ لوگ جو اکثر اپنے عہدوپیمان توڑ کر فیصلے کرنے کے معاملے میں ڈھلمل یقینی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں ‘ ایک دن آتا ہے جب وہ خوداعتمادی کھو کر آہستہ آہستہ دوسروں کے زیرِ اثر چلے جاتے ہیں ۔یہ مفلوج روحیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت مکمل طور پر کھو بیٹھتی ہیں اور پھر اپنے لیے بھی اور اپنے معاشرے کے لیے بھی ایک ضرررساں عنصر بن کر رہ جاتی ہیں ۔

* * * * *

آج ایک قسم کے چھوٹے چھوٹے حسابوں تلے پسے جانے والے‘ اپنی حیثیت‘ منصب‘ شہرت‘ اور شہوت جیسی چیزوں میں الجھ کر رہ جانے والے لوگ جب مفادات کی قوس ِقزح کی طرح ہمارے افق پر چھا جائیں گے‘ جب اُن کے خوف اور اندیشے ہمارے اِرادوں پر کمند پھینکیں گے‘ توپھر کون جانے وہ لوگ کیا کچھ کر ڈالیں گے۔۔۔۔؟

* * * * *

انسانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن سے پتہ چلتا ہے ہزاروں مزدوروں اور جانبازوں کا خون پسینہ بہا کر کئی شہر اور قلعے فتح کئے گئے مگر کئی بار محض ایک غدّار اور نامرد کی غدّارانہ حرکت کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ سب دوبارہ ہاتھوں سے نکل گئے۔ایسے واقعات خواہ صرف کسی ایک قوم تک ہی محدود کیوں نہ ہوں ‘ تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ لغاتوں میں بھی نہیں سما سکتے۔

* * * * *

آہ‘ قاتل شہرت‘ بے ایمان شہوت‘ قابلِ نفرت طمع کاری !۔۔۔کتنی روحیں ہیں جو محض ایک ہی بار تمہارے احاطے میں آئیں اور آتے ہی پیلی زرد ہو کر مُرجھا گئیں ۔ کتنے دل ہیں جو تمہاری آب و ہوا میں آ کر خزاں رسیدہ پودوں کی طرح پتہ پتہ جھڑنے سے غائب ہو گئے۔ اور کتنے سروقامت انسان تمہارے شوخ قہقہوں کے نتیجے میں معبد چھوڑ کر میخانوں میں جا گرے۔ جی ہاں ‘ تمہارے ماحول میں آنے والے دلیر جوان تتلی بن گئے‘ پھوہڑ ہو گئے۔تمہارے اِردگِرد آنے والے جوان بوڑھے ہو کرغائب ہو گئے!۔۔۔

Share:

More Posts

fethullah gulen le monde d39

ترکی کی حالیہ مثال کے باوجود اسلام اور جمہوریت ہم آہنگ ہیں

حالیہ صدی کے اوائل میں ترکی ایک جدید اسلامی جمہوریت کے طور پر ابھرا۔ موجودہ حکمران جماعت نے   2002 میں حکومت سنبھالنے کے بعد ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جو یورپی یونین کے جمہوری پیمانوں پر پوری اترتی تھیں اور ملک میں حقوق انسانی کا ریکارڈ بہتر ہونا شروع ہو گیا۔
بد قسمتی سے یہ جمہوری روایات…

fethullah gulen 28 subat surecini desteklemis midir 635

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم کا فتح اللہ گولن سے انٹریو

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم (ایس سی ایف) نے فتح اللہ گولن سے ان واقعات کے متعلق سوالات کیے جن کے نتیجے میں 150,000 لوگوں کو برطرف کیا گیا اور اتنے ہی لوگ حراست میں لیے گئے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزام میں 50,000 سے زائد لوگوں…

fethullah gulen hocaefendinin bbcye verdigi mulakat ce9

فرانس 24 کے لیے محمد فتح اللہ گولن کا انٹرویو

سوال: صدر اردگان کہتے ہیں کہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ 15جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کی کوشش کے پیچھے ماسٹر مایئنڈ آپ ہیں۔ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر اردگان سے کافی قربت ہے اور وہ ان کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔…

ataturk havalimanindaki teror saldirisiyla ilgili taziye mesaji d4d

ہمیں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے ان کی مدافعت کو مضبوط کرنا ہوگا

لندن اور مانچسٹر میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے کی ذمہ داری پھر داعش نامی گروہ نے لے لی۔ اس سے قبل بھی معصوم لوگوں پر حملہ کروانے والایہ گروہ اپنے آپ کو کوئی بھی نام دے لیکن ان کا نام انسانیت سے دور مجرم گروہ کا ہی بنتا ہے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کو مستقبل…

fethullah gulen 60 4b5 scaled

فتح اللہ گولن کا NPRکو انٹرویو: ’’میں ہر قسم کی بغاوت کے خلاف کھڑا ہوا ہوںـ‘‘

گذشتہ برس 15 جولائی کو ترک فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی کوشش کے دوران سرکاری عمارات پر بمباری کی اور سڑکوں اور پلوں کو بند کیا تاکہ صدر رجب طیب اردگان کو عہدے سے برطرف کردیا جائے۔اگرچہ اس کوشش کو اگلے ہی دن کچل دیا گیا مگر اس وقت کے بعد سے ترکی…

fethullah gulen de ozur dilemeli densizligi 91b

مصری اور انڈونیشین میڈیا کے لیے فتح اللہ گولن کا انٹرویو

1۔ صدر اردگان اور ان کے حامی آپ پر دہرے کردار کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایک نرم مزاج دینی استاد مگر ایک دہشت گرد ۔ وہ آپ پر گولنسٹ دہشت گرد تنظیم چلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ آپ اردگان کی جانب سے مرکزی دشمن ہونے پر کیسا محسوس کرتے…

fethullah gulen 08 bb3

فتح اللہ گولن:’’ میں ترکی میں ناکام بغاوت کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘

15جولائی کی رات ترکی فوجی بغاوت کی کوشش کے نتیجے میں حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن سانحے سے گزرا۔ اس رات کے واقعات کو ایک خطرناک دہشت گردی پر مبنی شورش کہا جاسکتا ہے۔
ترکی کے تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک…

Send Us A Message