وفاداری

Home » Urdu (اردو) » کتب » مضامین » وفاداری

وفاداری

وفاداری اور وفاشعاری اعلیٰ نصب العین کی خاطرزندگی گزارنےاورجدوجہدکرنے والےمعاشروں کا طرۂ امتیاز ہے۔ وفاشعاری خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں پروان چڑھنے والاوہ گلاب ہے، جس کا معاندانہ ماحول میں پایا جانا نہ صرف انتہائی کمیاب بلکہ ناممکن ہے۔ وفاداری کا جذبہ ہمیشہ ہم خیال اور ایک جیسے نصب العین کو حاصل کرنے کےخواہش مند لوگوں میں پایا جاتا ہے۔بغض، نفرت اور حسد وفاشعاری کو پنپنے کا موقع نہیں دیتے،بلکہ اسے فوراً ختم کردیتے ہیں۔ جی ہاں! وفاداری کا جذبہ صرف محبت، مہربانی اور فراخ دلی کےماحول میں پھلتا پھولتا اور پروان چڑھتا ہے، جبکہ معاندانہ ماحول میں آہستہ آہستہ مرجھا کر ختم ہوجاتا ہے۔

وفاشعاری کی ایک تعریف ’’دل اور جان کے ساتھ مکمل آہنگی‘‘ کے الفاظ سے بھی کی گئی ہے،جو اگرچہ نامکمل تعریف ہے،لیکن درست ہے، تاہم روحانی اعتبار سے کمزورلوگوں کے سامنے وفاشعاری پر گفتگو کرنا بہت مشکل ہے۔ بات کرتے وقت سچ بولنا اور اپنے عہد و پیمان پر پورا اترنا جو کہ وفاشعاری کی علامات میں سے ہیں، روحانی آگاہی کےثمرات ہیں۔ جس طرح جھوٹ بولنے ، وعدوں کو پورا نہ کرنےاور اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرنے والے منافقین سے روحانی آگاہی کی توقع رکھنا فریب خوردگی ہے، اسی طرح ان سے وفاداری کا مطالبہ کرنا بھی بے وقوفی ہے۔

جو انسان بے وفا شخص پر بھروسا کرتا ہے وہ بالآخر نقصان اٹھاتا ہے، جوانسان ایسے شخص کے ساتھ سفر کرتا ہے اسے راستے میں تنہا چھوڑدیا جاتا ہے اور جوانسان ایسےشخص کو اپنا رہنما بناتا ہے اسے ہمیشہ مایوسی اور نقصان کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب میں وفاداری کی شدید خواہش رکھتا تھ

میری آنکھیں افسوس کے آنسوؤں سے تر ہوگئیں

اب میں راستے میں تنہا کھڑا ہوں اور میرے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے

وفاداری کے تمام اوصاف کا حامل شخص بھروسے اور اعتماد کے مقام کو حاصل کرسکتا ہے۔ وفاداری کے جذبے سے سرشار خاندان خوش و خرم رہ سکتا ہے۔ اس عظیم جذبے کی بدولت کوئی بھی قوم قابل تعریف کمالات اور اعلیٰ اقدار کو حاصل کرسکتی ہے۔ اسی جذبے کے نتیجے میں کوئی ریاست اپنے شہریوں کی نظروں میں محترم بن سکتی ہے۔ جس ملک میں وفاداری کا فقدان ہو اس میں سنجیدہ افراد، پُراعتماد خاندانوں اور رشتوں اور مستحکم اور قابل اعتماد حکومت کے بارے میں گفتگو کرنا فضول ہے۔ ایسے ملک میں لوگ ایک دوسرے پر شک و شبہ کرتے ہیں، ازدواجی رشتوں میں بے سکونی پائی جاتی ہے ، خاندان پریشانی اور بے چینی کا شکاررہتے ہیں، حکومت اپنے شہریوں کو شک و شبہ اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے اور پڑوسی ایک دوسرے سے ایسے بیگانے ہوجاتے ہیں جیسے وہ پتھر کی بے جان چٹانیں ہوں۔

وفاداری لوگوں کو متحد اور یکجا کرتی ہے۔ وفاشعاری کی بدولت ذرات مل کر مجموعہ بن جاتے ہیں، متفرق اجزاء مل کر ایک ہوجاتے ہیں اورقلت کثرت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب زمین کے ان باسیوں کی وفاداری کی شعاعیں ابدی آسمانوں تک پہنچتی ہیں تو آسمان سے آنے والی شعاعیں ان کے راستے کو روشن کرنا اور ان کے سامنے سے تمام رکاوٹو ں کو دور کرنا شروع کردیتی ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک معاشرہ وفاداری کے جذبے کو پروان چڑھاتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو وفاشعاری کے متحد کرنے والے بازوؤں کے سپردکردیتا ہے۔

کیا آپ نے کسی خیال کو شدت سے چاہاہے؟ کیاآپ نے اپنے آپ کو کسی نصب العین کے لیے وقف کیا ہے؟ کیا آپ نے کسی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے؟ اس مقصد کے لیے ہوسکتا ہے آپ کو اپنی جان تک قربان کرنی پڑ جائے یا اپنی ساری دولت سے ہاتھ دھونا پڑ جائے، لیکن خدارا! وفاشعار رہیے گا، کیونکہ وفاشعار لوگوں کا مقام خدا اور مخلوق دونوں کی نظروں میں بہت بلند ہوتا ہے۔

مجھے خدا کی طرف سے یہ آواز آئی

اے محب! آجا ، تیرا ہمارے ساتھ قریبی تعلق ہے

یہ مقامِ ولایت ہے

ہم نے تجھے اپنا وفادار بندہ پایا ہے! (نسیمی)

حضرت آدم علیہ السلام نے وفاداری کی کنجی ہی کی مدد سے ایک ایک کرکے وہ تمام دروازے کھول لیے جو ان کے لیے بند ہوچکے تھے اور بالآخر وہ حق تعالیٰ کی مغفرت کے فرحت بخش چشمے تک پہنچ گئے۔ اسی قسم کی صورت حال ابلیس کو پیش آئی، لیکن اس نے اپنے آپ کو بے وفائی کے جال میں پھنسا کر برباد کردیا۔

طوفان کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے عمر دراز تک مصائب اور تکلیفیں سہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ وفادار رہے۔ صدیوں پر محیط ان کی وعظ ونصیحت کا ان کی قوم کی اکثریت پر کوئی اثر نہ ہوا، لیکن ایسے مایوس کن حالات میں بھی انہوں نے اپنے پروردگار سے بے وفائی کا کبھی نہیں سوچا۔ یہی وفاشعاری ان کے لیے ایسے وقت میں سفینہ نجات ثابت ہوئی جب زمین و آسمان انسانیت پر غیظ و غضب برسا رہےتھے۔

ابوالانبیاء اورخلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نمرود کی آگ کی تپش میں جھلستے ہوئے کس قدر وفاشعار ثابت ہوئے ؟جب ان کی پکار ’’میرے لیے اللہ کافی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی موسلا دھار رحمت ا ور احسانات کے ساتھ یکجا ہوئی تو جہنم کی آگ جیسے خوفناک شعلے ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والے بن گئے۔[1]

تمام مقدس ہستیوں کے امام حضرت محمدﷺاپنی روح میں رچی بسی ہوئی سچی وفاشعاری کے جذبات ہی کی بدولت آسمانوں کے پار اس معراج[2] تک گئے، جو آپ سے پہلے کسی کوبھی حاصل نہ ہوئی تھی۔ جی ہاں!آپﷺوفاداری کی بنا پر ہی تمام فرشتوں اور فانی روحوں پرسبقت لے گئے، لیکن پھر آپﷺآنکھوں کو خیرہ اور دلوں کومسحورکردینےوالے ایسےحسین مناظرجنہیں کسی آنکھ نےدیکھا اور نہ کسی دل میں ان کا خیال گزرا، کی پُرسعادت سلطنت کوچھوڑ کر اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ آئے، جہاں آپﷺنے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر اپنی قوم کوبھی اُس بلند مقام تک پہنچانے کے لیے ہر قسم کے خطرات اورتحدیات کا مقابلہ کرتے ہوئے جدوجہد کرنی تھی۔

یہ آپ ﷺکی اپنے صحابہ کرام کے ساتھ وفاشعاری کا کرشمہ تھا کہ آپﷺجنت اور اس کے خیرہ کن حسن و جمال کو بھول گئے ۔ یہ وفاداری کا عہد و پیمان ہی تھا، جس نے آپ ﷺکو ان عظیم الشان اعزازات و انعامات کو چھوڑ کر محرومیوں اور تکلیفوں سے بھری ہوئی اس دنیا کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا۔

ان تمام بلند ہستیوں کے اعمال ناموں کا خاتمہ وفاداری پر ہوا اور ان پر وفاشعاری کی مہر لگائی گئی، جبکہ راستے میں ساتھ چھوڑ جانے والوں کے بُرے اعمال ناموں پر بے وفائی کی مہر چسپاں کی جاتی ہے۔ جی ہاں، جو لوگ کوئی ذمہ داری اٹھاتے ہیں،لیکن چند قدم چل کر بے وفائی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ ذلیل اور گھٹیالوگ ہوتے ہیں اور انہیں پست ترین مقام کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ جو لوگ مقدس سفر اور بوجھ کو برداشت نہ کرسکے اورجنہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی وہ اپنا راستہ بھول کر درست راستے سے بھٹک گئے، لیکن جب بالآخر اس مقدس آز مائش سے گزرنے کی ہماری باری آئی تو ہم نے وفاداری کے ایک پختہ عہدو پیمان کے ساتھ اس بھاری ذمہ داری کو اٹھا لیا۔

لیکن افسوس ایک غیر متوقع جن نے ہمارا راستہ روک لیا اور ہم نے اپنے تمام پیمان توڑ ڈالے۔ ہر کوئی ہمارا ساتھ چھوڑ گیا، ہماری بہادری ماند پڑ گئی بلکہ آہستہ آہستہ ختم ہی ہوگئی،پھولوں کی جگہ کانٹوں نے لے لی، ہمارے تمام آفتاب و مہتاب ایک ایک کرکے غروب ہوگئے اور ہر طرف بےزارکن اور تکلیف دہ بادل چھا گئے۔ ہمارےسارےگلشن اجڑ گئے اور باغبان مرگئے۔ ’’شہد کے چھتوں کو توڑ دیا گیا اور کچھ شہدبھی باقی نہ رہا۔‘‘[3] قحط الرجال کے اس دور میں ہماری اس بدقسمت نسل کے نوجوان ان مردہ دل لوگوں کی شان میں قصیدے پڑھنے اور ان کے آگے جھکنے لگے،جن میں ذرہ برابر بھی وفاداری نہ تھی۔ وہ غیر مہذب اور بدمزاج لوگوں کی یہ کہہ کر تحسین و تعریف کرنے لگے: ’’واہ! وہ کتنے زیرک اور شریف انسان ہیں! ‘‘

اس المناک دور میں محمد عاکف کے درج ذیل اشعار لوگوں کے مایوس اورکراہنےوالےدلوں کی آخری صدا ہیں:

اب کوئی وفاداری باقی رہی ہےاور نہ ہی وعدوں کی پاسداری

اعتماد ایک بےمعنی لفظ بن کر رہ گیا ہے

جھوٹ کا دور دورہ ہے اور غداری اور اقربہ پروری معمول کی بات ہے

حق کا کسی کو علم نہیں

اے میرے خدا! یہ کتنی بری صورتحال ہے!

کس قدر اچانک اور خوفناک انقلاب برپا ہوچکا ہے!

دین باقی رہا ہے اور نہ ایمان

دین تباہی کا شکار ہے اور ایمان خواب و خیال بن کر رہ گیا ہے

تاریخ کے اس مرحلے میں ہر طرف جھوٹ بولنے والوں کا دور دورہ تھا، جنہوں نے اپنے عہد و پیمان کی دھجیاں بکھیر دی تھیں اور وہ کسی بھی قسم کی وفاداری کے جذبے سے عاری تھے۔ان پر زمین و آسمان کے باسی لعنت کرتے تھےاور لوگ کہتے تھے: ’’یہ تمام جھوٹے اورغنڈے کہاں سے وارد ہوگئے ہیں؟ کس غدار نے انہیں گود لیا ہے؟ کن بدقسمت والدین نے ان کی پرورش کی ہے؟ اور کن منحوس زبانوں نے انہیں یہاں خوش آمدید کہا ہے؟‘‘

اے وفاداری ! تم کہاں ہو؟ ہم ان لوگوں سے بے زار ہوچکے ہیں، جو آئے دن اپنے وعدوں کو پامال کرتے ہیں، جن کا ایک ایک لفظ مبالغہ آرائی پرمبنی ہوتا ہے، جن کا ہر کام دکھاوے کے لیے ہوتا ہے اور جو وفاداری کے جذبے سے بالکل عاری ہیں۔ ہمارے وہ وفاشعاردوست کہاں ہیں،جومحض وفاداری کی خاطر اس جگہ کئی دنوں تک انتظار کرتے ہیں جہاں تم نے ان سے ملنے کاوعدہ کیا تھا؟ وہ بہادر روحیں کہاں ہیں،جو وفاداری کے ساتھ یک جان ہوچکی ہیں؟ دورِ سعادت کے وہ معصوم اور امانت دار دوست کہاں ہیں جو وفاشعاری کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں؟

آؤ اور ہمارے خیالات کو تروتازگی بخشو اور جو کچھ بھی تم وفاشعاری کے بارے میں جانتے ہو اس سے ہمیں آگاہ کرو! اٹھو اور ہماری روحوں میں داخل ہوجاؤ،جوعزم و استقامت، جفاکشی اور وفاشعاری کا درس فراموش کرچکی ہیں۔ آؤ اور احیائے نو کے سرچشمے کی طرف ہماری رہنمائی کرو۔ آؤ اور ان چند ایک وفاشعار لوگوں کو بچالو جو مایوسی اور ناامیدی کی حالت میں ادھر ادھر بھٹک رہےہیں۔

اس امید کے ساتھ کہ ہماری نسل نو، جو وفاشعاری کی پیاسی ہے وفا شعاری کے جذبے کی حفاظت کرے گی…………

[1] ﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [الانبیاء: ۶۹] (ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجااور ابراہیم پر سلامتی والی بن جا۔)
[2] آسمان کی طرف آپﷺکی معراج آپﷺکے اہم ترین معجزات میں سے ہے۔ آسمان کے اس سفر میں ایک خاص مقام تک حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے ہمراہ گئے ، لیکن اس مقام پرپہنچ کر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتے ، چنانچہ نبی کریم ﷺاللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنےکے لیے اس مقام سےآگےتنہا تشریف لے گئے۔
[3] یہ شاعر الواری افندی (متوفی ۱۹۵۶) کا قول ہے۔

Share:

More Posts

fethullah gulen le monde d39

ترکی کی حالیہ مثال کے باوجود اسلام اور جمہوریت ہم آہنگ ہیں

حالیہ صدی کے اوائل میں ترکی ایک جدید اسلامی جمہوریت کے طور پر ابھرا۔ موجودہ حکمران جماعت نے   2002 میں حکومت سنبھالنے کے بعد ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جو یورپی یونین کے جمہوری پیمانوں پر پوری اترتی تھیں اور ملک میں حقوق انسانی کا ریکارڈ بہتر ہونا شروع ہو گیا۔
بد قسمتی سے یہ جمہوری روایات…

fethullah gulen 28 subat surecini desteklemis midir 635

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم کا فتح اللہ گولن سے انٹریو

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم (ایس سی ایف) نے فتح اللہ گولن سے ان واقعات کے متعلق سوالات کیے جن کے نتیجے میں 150,000 لوگوں کو برطرف کیا گیا اور اتنے ہی لوگ حراست میں لیے گئے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزام میں 50,000 سے زائد لوگوں…

fethullah gulen hocaefendinin bbcye verdigi mulakat ce9

فرانس 24 کے لیے محمد فتح اللہ گولن کا انٹرویو

سوال: صدر اردگان کہتے ہیں کہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ 15جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کی کوشش کے پیچھے ماسٹر مایئنڈ آپ ہیں۔ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر اردگان سے کافی قربت ہے اور وہ ان کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔…

ataturk havalimanindaki teror saldirisiyla ilgili taziye mesaji d4d

ہمیں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے ان کی مدافعت کو مضبوط کرنا ہوگا

لندن اور مانچسٹر میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے کی ذمہ داری پھر داعش نامی گروہ نے لے لی۔ اس سے قبل بھی معصوم لوگوں پر حملہ کروانے والایہ گروہ اپنے آپ کو کوئی بھی نام دے لیکن ان کا نام انسانیت سے دور مجرم گروہ کا ہی بنتا ہے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کو مستقبل…

fethullah gulen 60 4b5 scaled

فتح اللہ گولن کا NPRکو انٹرویو: ’’میں ہر قسم کی بغاوت کے خلاف کھڑا ہوا ہوںـ‘‘

گذشتہ برس 15 جولائی کو ترک فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی کوشش کے دوران سرکاری عمارات پر بمباری کی اور سڑکوں اور پلوں کو بند کیا تاکہ صدر رجب طیب اردگان کو عہدے سے برطرف کردیا جائے۔اگرچہ اس کوشش کو اگلے ہی دن کچل دیا گیا مگر اس وقت کے بعد سے ترکی…

fethullah gulen de ozur dilemeli densizligi 91b

مصری اور انڈونیشین میڈیا کے لیے فتح اللہ گولن کا انٹرویو

1۔ صدر اردگان اور ان کے حامی آپ پر دہرے کردار کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایک نرم مزاج دینی استاد مگر ایک دہشت گرد ۔ وہ آپ پر گولنسٹ دہشت گرد تنظیم چلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ آپ اردگان کی جانب سے مرکزی دشمن ہونے پر کیسا محسوس کرتے…

fethullah gulen 08 bb3

فتح اللہ گولن:’’ میں ترکی میں ناکام بغاوت کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘

15جولائی کی رات ترکی فوجی بغاوت کی کوشش کے نتیجے میں حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن سانحے سے گزرا۔ اس رات کے واقعات کو ایک خطرناک دہشت گردی پر مبنی شورش کہا جاسکتا ہے۔
ترکی کے تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک…

Send Us A Message