بندہِ خدمت گزارح

Home » Urdu (اردو) » کتب » المیزان یا چراغِ راہ » بندہِ خدمت گزارح

خدمت کرنے والے انسان کو چائیے کہ جس دعوے کو دل سے اپنا لے اُس کی خاطر خون اور پیپ کے دریاﺅں کو پار کر کے دوسری طرف جانے کا عزم اور فیصلہ کرلے‘ اتنا کامل کہ اپنے ہدف تک پہنچ کر ہر شے کو اُس کے حوالے کردے جو اُس شے کا حقیقی مالک ہے‘ اللہ تعالیٰ کے سامنے مہذب اور با ادب ر ہے۔۔۔ خدمت کے نام پر ہر آواز اور ہر سانس کو ذکر و تسبیح‘اور ہر فرد کو معزز اور عزیز سمجھتے ۔اُسے اپنے رب کے ارادوں پر اتنا یقین ہو اور وہ بذاتِ خود اِس قدر متوازن ہو کہ جن لوگوں کی کا میابیوں پراُن کی تحسین وآفرین کرے اُنہیں بالکل بت ہی نہ بنا ڈالے۔اگر کوئی کام ادھورا رہ جائے تو اُس کے لیے سب سے پہلے خود اپنے آپ کو اُس کام کی تکمیل کے لیے ذمہ دارنامزد کردے‘ اگر اُسے حق کو کندھا دینے کی ضرورت پڑ جائے تو اس کام میں بھاگ کر اُس کی مددکو پہنچنے والے ہر شخص کے ساتھ عزت سے پیش آئے اوراُس سے انصاف کرے۔ اگر اِس کا کوئی اِدارہ مسمار ہو جائے اور یوں اُس کی مجوزہ پلان برباد ہو جائے‘ یا آپس کا اتحاد تتّر بتّر ہو کر ساری قوت بکھر بکھرا جائے تو پھر بھی امید اور یقین کو ہاتھ سے نہ چھوڑے‘ جب نئے سرے سے پر نکال کر بلندیوں پر پرواز کرنا شروع کرے توغرور بالکل نہ کرے اور سب کچھ برداشت کر تار ہے۔ اُس کے معقول اور صاحبِ بصیرت ہونے کی یہ حالت ہو کہ وہ اِس راستے کے دشوار گزار اورکھڑی چٹان کی مانند ہونے کو ابتداءسے ہی قبول کرلے۔ اُس کا راستہ روکنے کے لیے خواہ جہنم کے گڑھے ہی کیوں نہ سامنے آ جائیں وہ پار نکل جانے پر مکمل یقین رکھے اورہمت نہ ہارے۔ اُسے چاہیے کہ جس دعوے کی خاطر سر کٹوانے کو تیار ہو اُس کی کامیابی کے لیے سودائیوں کی طرح کام کرے اور اتنا وفادار ہو کہ اپنی جانِ جاناں کو بھی قربان کر دینے سے دریغ نہ کرے‘ اور اُسے اتنا متحمل اور اللہ لوک ہونا چاہیے کہ اپنی ساری گزشتہ کارکردگیوں میں سے کسی ایک کو بھی دوبارہ ذہن میں نہ لائے۔

Share:

More Posts

fethullah gulen le monde d39

ترکی کی حالیہ مثال کے باوجود اسلام اور جمہوریت ہم آہنگ ہیں

حالیہ صدی کے اوائل میں ترکی ایک جدید اسلامی جمہوریت کے طور پر ابھرا۔ موجودہ حکمران جماعت نے   2002 میں حکومت سنبھالنے کے بعد ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جو یورپی یونین کے جمہوری پیمانوں پر پوری اترتی تھیں اور ملک میں حقوق انسانی کا ریکارڈ بہتر ہونا شروع ہو گیا۔
بد قسمتی سے یہ جمہوری روایات…

fethullah gulen 28 subat surecini desteklemis midir 635

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم کا فتح اللہ گولن سے انٹریو

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم (ایس سی ایف) نے فتح اللہ گولن سے ان واقعات کے متعلق سوالات کیے جن کے نتیجے میں 150,000 لوگوں کو برطرف کیا گیا اور اتنے ہی لوگ حراست میں لیے گئے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزام میں 50,000 سے زائد لوگوں…

fethullah gulen hocaefendinin bbcye verdigi mulakat ce9

فرانس 24 کے لیے محمد فتح اللہ گولن کا انٹرویو

سوال: صدر اردگان کہتے ہیں کہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ 15جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کی کوشش کے پیچھے ماسٹر مایئنڈ آپ ہیں۔ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر اردگان سے کافی قربت ہے اور وہ ان کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔…

ataturk havalimanindaki teror saldirisiyla ilgili taziye mesaji d4d

ہمیں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے ان کی مدافعت کو مضبوط کرنا ہوگا

لندن اور مانچسٹر میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے کی ذمہ داری پھر داعش نامی گروہ نے لے لی۔ اس سے قبل بھی معصوم لوگوں پر حملہ کروانے والایہ گروہ اپنے آپ کو کوئی بھی نام دے لیکن ان کا نام انسانیت سے دور مجرم گروہ کا ہی بنتا ہے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کو مستقبل…

fethullah gulen 60 4b5 scaled

فتح اللہ گولن کا NPRکو انٹرویو: ’’میں ہر قسم کی بغاوت کے خلاف کھڑا ہوا ہوںـ‘‘

گذشتہ برس 15 جولائی کو ترک فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی کوشش کے دوران سرکاری عمارات پر بمباری کی اور سڑکوں اور پلوں کو بند کیا تاکہ صدر رجب طیب اردگان کو عہدے سے برطرف کردیا جائے۔اگرچہ اس کوشش کو اگلے ہی دن کچل دیا گیا مگر اس وقت کے بعد سے ترکی…

fethullah gulen de ozur dilemeli densizligi 91b

مصری اور انڈونیشین میڈیا کے لیے فتح اللہ گولن کا انٹرویو

1۔ صدر اردگان اور ان کے حامی آپ پر دہرے کردار کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایک نرم مزاج دینی استاد مگر ایک دہشت گرد ۔ وہ آپ پر گولنسٹ دہشت گرد تنظیم چلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ آپ اردگان کی جانب سے مرکزی دشمن ہونے پر کیسا محسوس کرتے…

fethullah gulen 08 bb3

فتح اللہ گولن:’’ میں ترکی میں ناکام بغاوت کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘

15جولائی کی رات ترکی فوجی بغاوت کی کوشش کے نتیجے میں حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن سانحے سے گزرا۔ اس رات کے واقعات کو ایک خطرناک دہشت گردی پر مبنی شورش کہا جاسکتا ہے۔
ترکی کے تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک…

Send Us A Message