جوان نسلوں کی طرف شفقت کا رجحان‘ ہمارے ملک اور قوم کے سرپرست اور مربّی پیدا کرنے کی راہ پر اٹھایا والا ایک با معنی قدم ہے۔ لیکن اگر شفقت کے اس جذبے کا زورِ عمل ان کی قلبی اور روحانی زندگیوں پر ہو گا تو وہ فائدہ مند ہوگا۔ لیکن جب اسی جذبے کا رخ اُن کی جسمانیت کی طرف موڑ دیا گیا تو عین ممکن ہے کہ اس کا مقصد اصل مقصد سے ہٹ کر اُن کی جسمانی شخصیت کو ڈھالنے میں بدل جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ متعلقہ نوجوان اتنا قوی ہیکل شخص بن جائے کہ وہ نہایت بھدا معلوم ہونے لگے‘یہاں تک کہ اس کی مردانگی بھی مشکوک ہو جائے۔
اپنی جوان نسلوں کی قدر کرنے والی ہر قوم ہمیشہ اپنے عروج پر پہنچی‘ مگر جن قوموں نے اُنہیں جوانی کی اندھی خواہشوں کی لہروں پر چھوڑ دیا اُنہیں اس غفلت کی بہت بھاری سزا بھگتنا پڑی۔ آج اگر ہمارے ارد گرد ہر طرف غداری اور نفرت کی بہتات ہے اور ہماری نسلیں دن بدن زیادہ ہی سرکش اوربے قابو ہوتی چلی جا رہی ہیں تو یہ سب ہماری غفلت کا نتیجہ ہے۔ جی ہاں ! اگر آج ہمارا سر بادلوں میں گردش کر رہا ہے اور زہریلے سانپ ہمارے پاﺅں تلے سے نکل کر ہمار گھروں کے سونے والے کمروں تک پہنچ چکے ہیں اور ہمیں اس کی خبر تک نہیں ہوئی‘









