خواب اُن مشاہدات پر مشتمل ہوتے ہیں جو عالمِ حقیقت کی جانب کھلنے والی کھڑکیوں میں سے نظر آنے والے واقعات (جو ماضی میں پیش آ چکے ہیں یا مستقبل میں پیش آئیں گے) کے ہوبہو یا بعض حالات میں مختلف اشارات کے ذریعے سامنے آتے ہیں ۔ انسان کا ذہن‘ مختلف قسم کے دباﺅاورپیش بینی سے جس قدر دور ہوتا ہے اُتنا ہی اُس کا ہر خواب ماورا الحیات سے آنے والی ایک روشنی‘ ایک اشارے کی طرح اُس کے آگے پھیلے ہوئے اندھیروں کو روشن کر کے اُسے راہ دکھا سکتا ہے۔

* * * * *

خوابوں میں آنکھوں ‘مادے اور روشنی کی ضرورت محسوس کئے بغیر‘ دکھائی دینے والی اشیاءبصیرت اور روح کے ادراک کے ذریعے محسوس کی جا سکتی ہیں ۔ لہٰذا اکثر اوقات خواب انسان کو ایسی خوبصورت اور وسیع پیمانے کی اشیاءدکھا سکتے ہیں جنہیں وہ ہوش کی حالت میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس طرح کی مثالوں کی کوئی کمی نہیں جن میں صرف ایک ہی خواب کل‘ آج اور مستقبل کے متعلق اس قدر وسیع معلومات فراہم کر دیتا ہے کہ ان کا بیان کئی کتابوں میں بھی نہیں سما سکتا۔

* * * * *

وہ لوگ جنہوں نے کبھی خواب نہ دیکھا ہو ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس اعتبار سے بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواب روح کا طبعی مشاہدہ ہے۔ اس مشاہدے کے ذریعے انسان عموماََ جسمانی حدود سے باہر رہتے ہوئے ایک مکمل طور پر علیحدہ بُعد میں زندہ رہت ہے جہاں اُس کی رسائی خداجانے قدرت کے کتنے رازوں تک ہوسکتی ہے ۔

* * * * *

ایک ہی قسم کے خواب نظر آنا اس قدر عام ہے کہ اگر ہر شخص اپنے دیکھے ہوئے خوابوں کی محض تعبیر بتانے والوں کی توثیق کر سکتا تو اسی سے کتابوں کی جلدوں کی جلدیں معرضِ وجود میں آ جاتیں ۔

* * * * *

ہر پاک و صاف دل کی استعداد کے مطابق عالمِ ماورا سے سرک کر انسان کے مشاہدے کے اُفق پر اتر آنے والے کس قدر خواب ہیں کہ جن میں داخل ہو کر دل سیاحت کرتا ہے‘ اور ایک گلاب کے باغ جیسے ان خوابوں کے باغوں میں بہتے کوثر کے چشموں تک پہنچ کر جی بھر کر اپنی پیاس بجھاتا ہے‘ ابدیت میں کھُلنے والے اس مخفی راستے میں ایسے ایسے مناظر کا مشاہدہ کر کے آپے سے باہر ہو جاتا ہے جنہیں نہ کبھی کسی کی آنکھوں نے دیکھا اور نہ کسی کے کانوں نے سنا‘ اور جن کا تصور کرنے سے بھی روح عاجز ہوجاتی ہے۔

* * * * *

خوابوں ہی کی بدولت ہم قلب اور بصیرت جیسی اپنی دو الگ الگ صلاحیتوں کی موجودگی کا اِدراک کرتے ہیں اور جسمانی بعودِ ثلاثہ کی قید اور جیل خانے سے آزاد ہوجاتے ہیں ۔ دراصل وہ بلند روحیں جو حقیقت کے ساتھ یک جان ہو چکی ہوں ‘اُنہیں ماوراالحیات کے مشاہدے کے لئیے خوابوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ ہر وقت اُس دنیااور اِس عالم کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں اور ابدیت کی خوبصورتیوں کے ہمراہ مست و مخمور زندگی بسر کرتے ہیں ۔البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہ درہر ایک کے لیے کھلا نہیں ہوتااور جن کے لیے کھلا ہوتا ہے اُن کے لیے بھی نہایت سنجیدہ جہاد اور روحانی تجربات کے بعد کھلتا ہے۔

* * * * *

بعض لوگ انسانی ذہن کو گندگی کے ایک ایسے ڈھیر کی طرح سمجھتے ہیں جس میں حقیر ترین اشیاءایک دوسری میں گھل مل کر مغلوبہ بن چکی ہوں یا اس موضوع پر اپنی تحقیقات کو حیوانی احساسات کی مُبہَم دنیا ﺅں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ‘ اور خوابوں کو محض تحت الشعور میں رنگ رلیاں منانے والے جن بھوتوں کے ایک کارروان کی شکل میں دیکھتے اور دوسروں کو دکھاتے ہیں ۔حالانکہ خواب ہزاروں الہاموں کا واضح سرچشمہ بنتے چلے آ رہے ہیں ۔ ہزاروں موجد اور یارانِ حق ایسے ہیں جنہیں اُن کا پہلا الہام خوابوں ہی میں ملا تھا۔یہ موخرالذِکر لوگ ہمیشہ عالمِ رویا کے اس فیّاض اور با برکت ماحول کے شکرگزار رہیں گے۔

* * * * *

جس روحِ معظم نے دنیا کو روشنی میں ڈبویا ہوا ہے‘ وہ معرفت کے سمندروں میں خوابوں کے بادبان کھولے گھومتے پھرتے ہوئے بھی جگہ جگہ اس پہلی مبارک سیڑھی کی طرف لَوٹ کر اس مبارک نرسری( یعنی خوابوں کی دنیا) کی سیاحت کو جاتے رہے‘ جو پیغمبری کے چالیس سے زائدشعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔

Share:

More Posts

fethullah gulen le monde d39

ترکی کی حالیہ مثال کے باوجود اسلام اور جمہوریت ہم آہنگ ہیں

حالیہ صدی کے اوائل میں ترکی ایک جدید اسلامی جمہوریت کے طور پر ابھرا۔ موجودہ حکمران جماعت نے   2002 میں حکومت سنبھالنے کے بعد ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جو یورپی یونین کے جمہوری پیمانوں پر پوری اترتی تھیں اور ملک میں حقوق انسانی کا ریکارڈ بہتر ہونا شروع ہو گیا۔
بد قسمتی سے یہ جمہوری روایات…

fethullah gulen 28 subat surecini desteklemis midir 635

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم کا فتح اللہ گولن سے انٹریو

سٹاک ہوم سینٹر فارفریڈم (ایس سی ایف) نے فتح اللہ گولن سے ان واقعات کے متعلق سوالات کیے جن کے نتیجے میں 150,000 لوگوں کو برطرف کیا گیا اور اتنے ہی لوگ حراست میں لیے گئے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزام میں 50,000 سے زائد لوگوں…

fethullah gulen hocaefendinin bbcye verdigi mulakat ce9

فرانس 24 کے لیے محمد فتح اللہ گولن کا انٹرویو

سوال: صدر اردگان کہتے ہیں کہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ 15جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت کی کوشش کے پیچھے ماسٹر مایئنڈ آپ ہیں۔ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر اردگان سے کافی قربت ہے اور وہ ان کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔…

ataturk havalimanindaki teror saldirisiyla ilgili taziye mesaji d4d

ہمیں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے ان کی مدافعت کو مضبوط کرنا ہوگا

لندن اور مانچسٹر میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے کی ذمہ داری پھر داعش نامی گروہ نے لے لی۔ اس سے قبل بھی معصوم لوگوں پر حملہ کروانے والایہ گروہ اپنے آپ کو کوئی بھی نام دے لیکن ان کا نام انسانیت سے دور مجرم گروہ کا ہی بنتا ہے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کو مستقبل…

fethullah gulen 60 4b5 scaled

فتح اللہ گولن کا NPRکو انٹرویو: ’’میں ہر قسم کی بغاوت کے خلاف کھڑا ہوا ہوںـ‘‘

گذشتہ برس 15 جولائی کو ترک فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی کوشش کے دوران سرکاری عمارات پر بمباری کی اور سڑکوں اور پلوں کو بند کیا تاکہ صدر رجب طیب اردگان کو عہدے سے برطرف کردیا جائے۔اگرچہ اس کوشش کو اگلے ہی دن کچل دیا گیا مگر اس وقت کے بعد سے ترکی…

fethullah gulen de ozur dilemeli densizligi 91b

مصری اور انڈونیشین میڈیا کے لیے فتح اللہ گولن کا انٹرویو

1۔ صدر اردگان اور ان کے حامی آپ پر دہرے کردار کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایک نرم مزاج دینی استاد مگر ایک دہشت گرد ۔ وہ آپ پر گولنسٹ دہشت گرد تنظیم چلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ آپ اردگان کی جانب سے مرکزی دشمن ہونے پر کیسا محسوس کرتے…

fethullah gulen 08 bb3

فتح اللہ گولن:’’ میں ترکی میں ناکام بغاوت کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘

15جولائی کی رات ترکی فوجی بغاوت کی کوشش کے نتیجے میں حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن سانحے سے گزرا۔ اس رات کے واقعات کو ایک خطرناک دہشت گردی پر مبنی شورش کہا جاسکتا ہے۔
ترکی کے تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک…

Send Us A Message